21 ستمبر 2011 - 20:30

اسلام آباد…سپریم کورٹ نے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے متعلق سندھ حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکردیا،

ابنا: چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ عدالت نے جو پوچھا تھا اس کا جواب نہیں دیا گیا۔عدالت نے سندھ حکومت کو آئندہ پیرتک جامع رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی ہیچیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ماروی میمن کی سندھ میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔سندھ حکومت کی طرف سے اس کے وکیل نے محکمہ آبپاشی کی سیلاب کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔جس پر عدالت عظمیٰ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت نے جو پوچھا تھا اس کا جواب نہیں دیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ماروی میمن کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ متاثرین کو ریلیف نہیں دیا جارہا،اور یہ کہ سانگھڑ میں گیارہ روپے فی کس امداد دی گئی۔اس پر سندھ حکومت کے وکیل نے موقف اختیارکیا کہ متاثرین کے لئے فی کس 20 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس امداد کا اعلان صدر نے کیا ہے، سندھ حکومت نے نہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کو نہیں دیکھیں گے، چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ فلڈ کمیشن کی سفارشات پر کیوں عملدرامد نہیں کیا گیا، چیف جسٹس نے یہ بھی اسفتسار کیا کہ فلڈ کمیشن کی سفارشات پر عملدرامد نہ کرنے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ 
.............

/169